حدیث ۳۴۷۵
لڑکی کی اجازت نکاح میں: خاموشی کا حکم
صحیح مسلم : ۳۴۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۷۵
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، جميعا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ : حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ : قَالَ ذَكْوَانُ مَوْلَى عَائِشَةَ ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَارِيَةِ يُنْكِحُهَا أَهْلُهَا ، أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا ؟ فقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، تُسْتَأْمَرُ " ، فقَالَت عَائِشَةُ : فَقُلْتُ لَهُ : فَإِنَّهَا تَسْتَحْيِي ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَذَلِكَ إِذْنُهَا إِذَا هِيَ سَكَتَتْ " .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جو لڑکی ایسی ہو کہ نکاح کر دیں اس کا اس کے گھر والے (یعنی ولی لوگ) تو کیا اس سے بھی اجازت لی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اجازت لی جائے۔“ پھر انہوں نے فرمایا کہ وہ شرماتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اجازت اس کی یہی ہے کہ چپ ہو جائے۔“ (یعنی زبان سے ہاں، ہوں، ضروری نہیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود سوال کیا کہ جس لڑکی کا نکاح اس کے گھر والے کریں، کیا اس سے بھی اجازت لی جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اجازت لی جائے۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ وہ تو شرماتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب وہ چپ ہو جائے تو یہی اس کی اجازت ہے۔ اس روایت کا انداز بہت سادہ ہے اور مسئلہ بھی بہت واضح: نکاح میں لڑکی سے پوچھنا چاہیے۔ اگر وہ شرم کی وجہ سے زبان سے جواب نہ دے اور خاموش رہے تو حدیث نے اس خاموشی کو اجازت بتایا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر والے نکاح کریں تو بھی لڑکی سے اجازت لی جائے۔
- لڑکی کی شرم کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
- خاموشی کو اجازت قرار دیا گیا، جب سوال اجازت کے لیے ہو۔
