حدیث ۳۴۷۶
بیوہ کا حق اور کنواری کی اجازت: نکاح کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۴۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۷۶
حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حدثنا مَالِكٌ . ح وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : قُلْتُ لِمَالِكٍ : حَدَّثَكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " ، قَالَ : نَعَمْ .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنے نکاح میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری سے اس کے نکاح میں اجازت لی جائے اور اجازت اس کی چپ رہنا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۴۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بیوہ اپنے نکاح کے معاملے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری سے اس کے نکاح میں اجازت لی جائے۔ پھر فرمایا گیا کہ کنواری کی اجازت اس کا چپ رہنا ہے۔ یہاں بیوہ اور کنواری دونوں کے لیے الگ انداز بیان ہوا ہے۔ بیوہ کے بارے میں اس کے اپنے حق کو نمایاں کیا گیا، اور کنواری کے بارے میں اجازت لینے کی بات کی گئی۔ اس سے نکاح میں رضامندی کا اصول سمجھ آتا ہے۔ حدیث میں جو بات آئی ہے، اسی حد تک کہا جائے گا کہ نکاح کے معاملے میں عورت کی اجازت کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیوہ کو اپنے نکاح کے معاملے میں خاص حق بتایا گیا ہے۔
- کنواری سے بھی نکاح کے لیے اجازت لی جائے۔
- کنواری کی خاموشی کو اس کی اجازت قرار دیا گیا ہے۔
