رمضان کی نماز
کل احادیث 14
رمضان کی نماز اور قیامِ رمضان کی فضیلت: احادیثِ مبارکہ کا مجموعہ
رمضان کی نماز، جسے عام طور پر تراویح کہا جاتا ہے، دینِ اسلام میں ایک انتہائی بابرکت اور اجر و ثواب کا باعث عبادت ہے۔ ان مستند احادیث کی روشنی میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص رمضان کی راتوں میں ایمان اور خالص نیت کے ساتھ نماز کے لیے کھڑا ہو، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امت پر فرض ہو جانے کے اندیشے سے مسجد میں باجماعت تراویح کا سلسلہ باقاعدہ جاری نہیں رکھا، جس کی وجہ سے عہدِ صدیقی تک لوگ متفرق طور پر یہ نماز پڑھتے تھے۔ بعد ازاں، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے امت کی بھلائی کے لیے تمام مسلمانوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع فرما کر باجماعت تراویح کے اس خوبصورت سلسلے کو دوبارہ منظم کیا۔
صحیح بخاری : ۱۱۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۲۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ : قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ وَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ " وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ .
´ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی۔ صحابہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ نماز پڑھی۔ دوسری رات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز پڑھی تو نمازیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تیسری یا چوتھی رات تو پورا اجتماع ہی ہو گیا تھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات نماز پڑھانے تشریف نہیں لائے۔ صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ جتنی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے تھے۔ میں نے اسے دیکھا لیکن مجھے باہر آنے سے یہ خیال مانع رہا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے۔ یہ رمضان کا واقعہ تھا۔
صحیح بخاری : ۲۰۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۰۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ لِرَمَضَانَ : مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہ مجھے ابوسلمہ نے خبر دی، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے فضائل بیان فرما رہے تھے کہ جو شخص بھی اس میں ایمان اور نیت اجر و ثواب کے ساتھ (رات میں) نماز کے لیے کھڑا ہو اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
صحیح بخاری : ۲۰۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۰۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ ، ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا .
´ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کی راتوں میں (بیدار رہ کر) نماز تراویح پڑھی، ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ، اس کے اگلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور لوگوں کا یہی حال رہا (الگ الگ اکیلے اور جماعتوں سے تراویح پڑھتے تھے) اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی ایسا ہی رہا۔
