اعتکاف کے احکام
کل احادیث 44
رمضان المبارک میں اعتکاف کے احکام اور فضیلت
ان احادیث مبارکہ میں اعتکاف کے احکام اور شب قدر کی تلاش کے حوالے سے تفصیلی ہدایات ملتی ہیں۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایات کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے پہلے رمضان کے ابتدائی اور درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا، جس کے دوران آپ ﷺ نے ایک خیمے (ترکی قبہ) میں پردے کا اہتمام بھی کیا۔ بعد ازاں فرشتہ الہیٰ کے ذریعے آگاہ کیے جانے پر آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو ترغیب دی کہ جو شخص اعتکاف کرنا چاہے، وہ آخری عشرے میں اپنے معتکف میں ثابت قدم رہے اور شب قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرے۔ احادیث کے مطابق، رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دکھایا گیا تھا کہ آپ ﷺ شب قدر کی صبح پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے ہیں۔ چنانچہ اکیسویں شب کو بارش ہوئی اور مسجد نبوی کی چھت ٹپکنے لگی، اور صحابہ نے صبح کی نماز کے بعد نبی کریم ﷺ کی پیشانی اور ناک کے بانسے پر کیچڑ اور پانی کا اثر دیکھا، جو اس مبارک رات کی ایک اہم نشانی تھی۔
صحیح مسلم : ۲۷۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۶۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ ، فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينِ تَمْضِي عِشْرُونَ لَيْلَةً ، وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، يَرْجِعُ إِلَى مَسْكَنِهِ ، وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ ، ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَبِتْ فِي مُعْتَكَفِهِ ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَأُنْسِيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي كُلِّ وِتْرٍ ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : مُطِرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَوَجْهُهُ مُبْتَلٌّ طِينًا وَمَاءً ،
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کرتے تھے۔ مہینے کے بیچ کے دہے میں (یعنی رمضان کے) پھر جب بیس راتیں گزر جاتی تھیں رمضان کی اور اکیسویں آنے کو ہوتی تھی تو اپنے گھر لوٹ آتے تھے۔ اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معتکف ہوتے تھے وہ بھی لوٹ آتے تھے پھر ایک ماہ میں اسی طرح اعتکاف کیا اور جس رات میں گھر آنے کو تھے خطبہ پڑھا اور لوگوں کو حکم کیا جو منظور الہٰی تھا پھر فرمایا: ”میں اس عشرہ میں اعتکاف کرتا تھا پھر مجھے مناسب معلوم ہوا کہ میں اس عشرہ اخیر میں بھی اعتکاف کروں سو جو میرے ساتھ اعتکاف کرنے والا ہو وہ رات کو اپنے معتکف ہی میں رہے (اور گھر نہ جائے) اور میں نے خواب میں اس شب قدر کو دیکھا مگر بھلا دیا گیا سو اسے اخر کی دس راتوں میں ڈھونڈھو ہر طاق رات میں اور میں اپنے کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ سجدہ کر رہا ہوں پانی اور کیچڑ میں۔“ (یعنی اس رات کے آخر میں ایسا ہو گا یہ بات خواب کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد رہی) پھر سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اکیسویں شب کہ ہم پر مینہ برسا اور مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلیٰ پر ٹپکی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز سے سلام پھیرا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرے میں کیچڑ اور پانی بھرا ہوا تھا۔
صحیح مسلم : ۲۷۷۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۷۰
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُجَاوِرُ فِي رَمَضَانَ الْعَشْرَ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ " ، وَقَالَ : " وَجَبِينُهُ مُمْتَلِئًا طِينًا وَمَاءً " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس سند سے وہی روایت مروی ہوئی مگر اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمارے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ ثابت رہے اپنے معتکف میں۔“ اور آخر میں کہا کہ پیشانی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیچڑ اور پانی بھرا ہوا تھا۔
صحیح مسلم : ۲۷۷۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۷۱
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا حَصِيرٌ ، قَالَ : فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ فَدَنَوْا مِنْهُ ، فَقَالَ : " إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ، ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ ، ثُمَّ أُتِيتُ فَقِيلَ لِي : إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ " ، فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ ، قَالَ : " وَإِنِّي أُرْبِئْتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ ، وَإِنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتَهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ " ، فَأَصْبَحَ مِنْ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ ، فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ ، فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَجَبِينُهُ وَرَوْثَةُ أَنْفِهِ فِيهِمَا الطِّينُ وَالْمَاءُ ، وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف فرمایا عشرہ اول میں رمضان کے پھر اعتکاف فرمایا عشرہ اوسط میں ایک ترکی قبہ میں (اس سے کفار کی چیزون کا استعمال روا ہوا) کہ اس کے دروزے پر ایک حصیر لٹکا ہوا تھا (پردہ کے لیے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حصیر اپنے ہاتھ سے ہٹایا اور ایک کونے میں قبہ کے کر دیا پھر اپنا سر نکالا اور لوگوں سے باتیں کیں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آ گئے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عشرہ اول کا اعتکاف کرتا ہوں اور اس رات کو ڈھونڈھتا تھا پھر میں نے عشرہ اوسط کا اعتکاف کیا پھر میرے پاس کوئی آیا (یعنی فرشتہ) اور مجھ سے کہا گیا کہ وہ عشرہ اخیر میں ہے پھر جو چاہے تم میں سے وہ پھر اعتکاف کرے۔“ یعنی عشرہ اخیر میں بھی معتکف رہے پھر لوگ معتکف رہے اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ”مجھے دکھایا گیا کہ وہ طاق راتوں میں ہے اور میں اس کی صبح کو پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اکیسویں شب کی صبح ہوئی اور اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تک نماز پڑھتے رہے اور رات کو مینہ برسا اور مسجد ٹپکی اور میں نے دیکھا مٹی اور پانی کو پھر جب صبح کی نماز پڑھ کر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک کے بانسے پر مٹی اور پانی کا نشان تھا اور وہ رات اکیسویں تھی اور عشرہ اخیر کی رات تھی۔
