کعبہ کا طواف

کل احادیث 250

کعبہ کا طواف: حجر اسود کو بوسہ دینے اور رمل کرنے کا مسنون طریقہ

ان مبارک احادیث میں کعبہ کا طواف کرنے اور اس کے مسنون آداب کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ احادیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی مکہ تشریف لاتے تو طواف کی ابتدا میں حجر اسود کو بوسہ دیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ حجر اسود کو چومنا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی میں ہے، کیونکہ وہ بذات خود نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ مزید برآں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج اور عمرہ دونوں کے طواف میں پہلے تین چکروں میں رمل کرتے (تیز چلتے) تھے اور باقی چار چکروں میں معمول کے مطابق چلتے تھے۔ اگرچہ رمل کی ابتدا مشرکین کو مسلمانوں کی قوت دکھانے کے لیے کی گئی تھی، لیکن اسلامی اسکالرز کے مطابق یہ آج بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ خوبصورت سنت کے طور پر برقرار ہے۔

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۹۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّهُ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَقَبَّلَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ " .

´ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں عابس بن ربیعہ نے کہ` عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دیا اور فرمایا ”میں خوب جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے میں نہ دیکھتا تو میں بھی کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔“

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۰۲

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قال : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ وَقَدْ وَهَنَهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ ، وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ ، وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ " .

´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` (عمرۃ القضاء 7 ھ میں) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ) تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آئے ہیں، ان کے ساتھ ایسے لوگ آئے ہیں جنہیں یثرب (مدینہ منورہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل (تیز چلنا جس سے اظہار قوت ہو) کریں اور دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسب معمول چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم نہیں دیا کہ سب پھیروں میں رمل کریں اس لیے کہ ان پر آسانی ہو۔

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۰۳

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قال : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ إِذَا اسْتَلَمَ الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ أَوَّلَ مَا يَطُوفُ يَخُبُّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ " .

´ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لاتے تو پہلے طواف شروع کرتے وقت حجر اسود کو بوسہ دیتے اور سات چکروں میں سے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں