مکہ اور مدینہ کی حرمت
کل احادیث 352
مکہ مکرمہ کی حرمت اور اس کے شرعی احکام: حدیثِ نبوی کی روشنی میں
مکہ مکرمہ اللہ تعالی کا قائم کردہ ایک ایسا مقدس اور محترم شہر ہے جس کی حرمت زمین و آسمان کی پیدائش کے دن سے لے کر قیامت تک کے لیے طے شدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مکہ کی حدود میں کسی کا خون بہانا، درخت یا کانٹے کاٹنا، اور یہاں کے شکار کو ستانا یا بھگانا سخت ممنوع ہے۔ حتیٰ کہ مکہ میں گری پڑی چیز کو اٹھانا بھی صرف اسی شخص کے لیے جائز ہے جو اس کے اصل مالک تک پہنچانے کے لیے باقاعدہ اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ البتہ ضرورت کے تحت اذخر نامی گھاس کاٹنے کی خاص رخصت دی گئی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ شہر امن و سلامتی کا گہوارہ ہے اور اس کی عزت و احترام ہر مسلمان پر لازم ہے۔
صحیح بخاری : ۱۵۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۷۳
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : " كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا دَخَلَ أَدْنَى الْحَرَمِ أَمْسَكَ عَنِ التَّلْبِيَةِ ، ثُمَّ يَبِيتُ بِذِي طِوًى ، ثُمَّ يُصَلِّي بِهِ الصُّبْحَ , وَيَغْتَسِلُ وَيُحَدِّثُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " .
´ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، انہیں ایوب سختیانی نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہوں نے بیان کیا کہ` جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حرم کی سرحد کے قریب پہنچتے تو تلبیہ کہنا بند کر دیتے۔ رات ذی طویٰ میں گزارتے، صبح کی نماز وہیں پڑھتے اور غسل کرتے (پھر مکہ میں داخل ہوتے) آپ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
صحیح بخاری : ۱۵۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۷۴
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " بَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي طُوًى حَتَّى أَصْبَحَ ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ " ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلُهُ .
´ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی طویٰ میں رات گزاری۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے۔
صحیح بخاری : ۱۵۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۷۵
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَعْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا ، وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى " .
´ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، ان سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں بلند گھاٹی (یعنی جنت المعلیٰ) کی طرف سے داخل ہوتے اور نکلتے ”ثنیہ سفلیٰ“ کی طرف سے یعنی نیچے کی گھاٹی (باب شبیکہ) کی طرف سے۔
