حدیث ۹۷۹
صف سے سینہ باہر نکلنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ
صحیح مسلم : ۹۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۷۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُسَوِّي صُفُوفَنَا ، حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بِهَا الْقِدَاحَ ، حَتَّى رَأَى أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ ، ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا ، فَقَامَ حَتَّى كَادَ يُكَبِّرُ ، فَرَأَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ ، فَقَالَ عِبَادَ اللَّهِ ، لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ " ،
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں برابر کیا کرتے تھے حتٰی کہ ایسا معلوم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تیر کی لکڑی برابر فرما رہے ہوتے اور یہ سلسلہ جاری رہا، تاوقتیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا کہ ہم لوگ اس بات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کر چکے ہیں پھر ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو کھڑے ہو گئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے۔ اتنے میں آپ نے ایک آدمی دیکھا جس کا سینہ صف سے نکلا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! تم لوگ ضرور بالضرور اپنی صفیں برابر کر لو گے ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں میں مخالفت ڈال دے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۷۹ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں برابر کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ ایسا لگتا جیسے آپ تیر کی لکڑی برابر کر رہے ہوں۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بات کو سمجھ چکے تو ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہنے کے قریب تھے کہ ایک آدمی کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ کے بندو! تم ضرور اپنی صفیں برابر کر لو گے، ورنہ اللہ تمہارے چہروں میں مخالفت ڈال دے گا۔ اس حدیث سے صف بندی کی عملی شکل معلوم ہوتی ہے۔ صرف نیت کافی نہیں، جسم کو بھی صف میں برابر رکھنا ہے۔ سینہ، کندھا اور کھڑے ہونے کی جگہ صف کے ساتھ درست ہونی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیں خود برابر کراتے تھے۔
- صف سے سینہ یا جسم آگے نکالنے سے بچنا چاہیے۔
- تکبیر سے پہلے صف درست کرنا چاہیے۔
- صفوں کی بے ترتیبی پر حدیث میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
