حدیث ۸۷۷
سورۂ فاتحہ کی روایت میں فصاعداً کا اضافی لفظ
صحیح مسلم : ۸۷۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۷۷
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ ، فَصَاعِدًا .
اور معمر نے اتنا زیادہ بیان کیا پس زائد۔
صحیح مسلم حدیث ۸۷۷ کا خلاصہ
یہ روایت بہت مختصر ہے۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ معمر نے اسی سند سے پچھلی روایت جیسا مضمون نقل کیا اور اس میں ایک لفظ زیادہ بیان کیا: «فصاعداً»۔ چونکہ متن میں مکمل تفصیل دوبارہ نہیں دی گئی، اس لیے اس حدیث کی وضاحت بھی اسی حد تک رکھنی چاہیے۔ یہ روایت سورۂ فاتحہ اور ام القرآن سے متعلق سابقہ مضمون کے تسلسل میں آتی ہے، مگر یہاں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ایک راوی نے اضافی لفظ بھی نقل کیا۔ اس سے حدیث کے الفاظ کی حفاظت اور نقل میں احتیاط کا انداز معلوم ہوتا ہے۔ عام قاری کے لیے اس کا فائدہ یہ ہے کہ جب ایک ہی مضمون مختلف سندوں سے آتا ہے تو کبھی بعض الفاظ کی زیادتی بھی نقل ہوتی ہے، اور اسے امانت کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں سابقہ مضمون کے ساتھ زائد لفظ نقل ہوا ہے۔
- حدیث کے الفاظ کو امانت کے ساتھ محفوظ کیا گیا۔
- مختصر روایات بھی سند اور متن کی باریکی دکھاتی ہیں۔
- وضاحت کرتے وقت صرف موجود متن تک محدود رہنا چاہیے۔
