حدیث ۸۴۱
اذان اور اقامت کا نبوی طریقہ
صحیح مسلم : ۸۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۴۱
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُمِرَ بِلَالٌ ، أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ ، وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ دو دو مرتبہ اذان کے کلمات ادا کریں اور اقامت کے الفاظ ایک ایک مرتبہ کہا کریں۔
صحیح مسلم حدیث ۸۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں اذان اور اقامت کے طریقے کا ایک صاف حکم بیان ہوا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہیں اور اقامت کے الفاظ ایک ایک مرتبہ ادا کریں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی اذان میں اعلان کو نمایاں کیا گیا، اس لیے کلمات کو دہرایا گیا، جبکہ اقامت نماز شروع ہونے کے قریب کہی جاتی ہے، اس لیے اسے مختصر رکھا گیا۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ اذان نماز کی پکار ہے اور اقامت جماعت کے کھڑے ہونے کا اعلان ہے۔ یہ حدیث اذان کا طریقہ، اقامت کا طریقہ اور مؤذن کے عمل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہنا اس روایت میں بیان ہوا ہے۔
- اقامت کے الفاظ ایک ایک مرتبہ کہنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
- مؤذن کو نماز کے اعلان میں مقرر طریقے کی پابندی کرنی چاہیے۔
