حدیث ۶۹۱

حائضہ عورت کے ہاتھ پاک ہیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۱

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، نَاوِلِينِي الثَّوْبَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي حَائِضٌ ، فَقَالَ : إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ ، فَنَاوَلَتْهُ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے۔ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! مجھ کو کپڑا اٹھا دے“، انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے“ پھر انہوں نے کپڑا اٹھا دیا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۹۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! مجھے کپڑا اٹھا دو۔ انہوں نے کہا کہ میں حائضہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے، پھر انہوں نے کپڑا اٹھا دیا۔ یہ روایت حائضہ عورت کا حکم سمجھنے کے لیے بہت مشہور جملہ دیتی ہے۔ حائضہ کے ہاتھ کو ناپاک سمجھ کر پاک کپڑے یا چیز سے روکنا اس حدیث کے مطابق درست نہیں لگتا۔ روایت میں مسجد کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہونا اور کپڑا مانگنا آیا ہے، اس لیے بات کپڑا اٹھانے اور ہاتھ کی پاکیزگی تک رکھی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حائضہ عورت کا ہاتھ پاک چیز پکڑ سکتا ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو کپڑا دینے سے نہیں روکا۔
  • حیض کو ہاتھ کی ناپاکی نہیں کہا گیا۔
  • غلط احتیاط کبھی کبھی دین کو مشکل بنا دیتی ہے، حدیث آسان بات بتاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں