حدیث ۶۵
اچھی بات کو حدیث کہنا: دین میں بڑی احتیاط کی بات
صحیح مسلم : ۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ رَقَبَةَ ، أَنَّ أَبَا جَعْفَرٍ الْهَاشِمِيَّ الْمَدَنِيَّ ، كَانَ يَضَعُ أَحَادِيثَ كَلَامَ حَقٍّ ، وَلَيْسَتْ مِنْ أَحَادِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ يَرْوِيهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
رقبہ بن مسقلہ بن عبداللہ کوفی نے کہا کہ ابوجعفر ہاشمی مدنی (جس کا نام عبداللہ بن مسور مدانيی ہے) سچی سچی باتوں کو حدیث بنا کر نقل کرتا حالانکہ وہ حدیث نہ ہوتیں اور روایت کرتا ان کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵ کا خلاصہ
اس روایت کا مرکزی موضوع جھوٹی نسبت اور حدیث گھڑنے سے بچنا ہے۔ رقبہ بن مسقلہ نے ابوجعفر ہاشمی مدنی کے بارے میں کہا کہ وہ سچی اور اچھی باتوں کو حدیث بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتا تھا، حالانکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث نہ ہوتیں۔ اس سے بہت واضح سبق ملتا ہے کہ ہر اچھی بات حدیث نہیں ہوتی۔ بات حق ہو سکتی ہے، مگر اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا تب ہی درست ہے جب واقعی ثابت ہو۔ آج بھی لوگ “حدیث شریف” کہہ کر بہت سی باتیں شیئر کرتے ہیں، مگر حدیث کی تحقیق، مستند حوالہ، اور صحیح نسبت ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اچھی بات کو بغیر ثبوت حدیث کہنا درست نہیں۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت بہت احتیاط سے کرنی چاہیے۔
- سچ جیسی لگنے والی بات بھی حدیث نہیں بن جاتی۔
- دینی بات پھیلانے سے پہلے مستند حوالہ دیکھنا چاہیے۔
