حدیث ۶۳۱
طہارت میں پہنے موزوں پر مسح: رہنے دو، میں نے پاکی میں پہنے ہیں
صحیح مسلم : ۶۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي مَسِيرٍ ، فَقَالَ لِي : أَمَعَكَ مَاء ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى فِي سَوَادِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا ، حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ ، فَقَالَ : دَعْهُمَا ، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ ، وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا " .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سے اترے اور چلے یہاں تک کہ اندھیری رات میں نظروں سے چھپ گئے، پھر لوٹ کر آئے تو میں نے پانی ڈالا ڈول سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ دھویا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبہ اون کا پہنے ہوئے تھے تو ہاتھ آستینوں سے باہر نہ نکال سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیچے سے ہاتھوں کو باہر نکالا اور دھویا اور سر پر مسح کیا۔ پھر میں جھکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتارنے کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہنے دے۔ میں نے ان کو طہارت پر پہنا ہے۔“ اور مسح کیا ان دونوں پر۔
صحیح مسلم حدیث ۶۳۱ کا خلاصہ
یہ حدیث موزوں پر مسح کی شرط کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیری رات میں نظر سے دور گئے، پھر واپس آئے۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ دھویا، اون کے جبہ کی وجہ سے ہاتھ آستینوں سے نہ نکل سکے تو نیچے سے نکال کر دھوئے، پھر سر پر مسح کیا۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ موزے اتارنے کے لیے جھکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہنے دو، میں نے انہیں طہارت کی حالت میں پہنا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پر مسح کیا۔ اس حدیث میں مسح علی الخفین کا اہم نکتہ یہی ہے کہ موزے پاکی کی حالت میں پہنے گئے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- موزوں پر مسح کے لیے اس روایت میں طہارت کی حالت میں پہننے کا ذکر ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزے اتارنے سے منع فرمایا اور وجہ بتائی۔
- سفر میں وضو اور مسح کا عملی طریقہ صحابی نے تفصیل سے بیان کیا۔
