حدیث ۵۹۷
فطرت کی پانچ سنتیں: جسمانی صفائی کا مکمل بیان
صحیح مسلم : ۵۹۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۹۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ ، أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ ، الْخِتَانُ ، وَالِاسْتِحْدَادُ ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ ، وَنَتْفُ الإِبِطِ ، وَقَصُّ الشَّارِبِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فطرت پانچ ہیں یا پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں۔ ختنہ کرنا اور زیرناف کے بال مونڈنا اور ناخن کاٹنا اور بغل کے بال اکھیڑنا اور مونچھ کترانا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرت کی پانچ چیزیں بیان فرمائیں۔ ان میں ختنہ کرنا، زیرناف کے بال مونڈنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا اور مونچھ کترانا شامل ہیں۔ یہ سب کام جسمانی صفائی اور پاکیزہ رہن سہن سے تعلق رکھتے ہیں۔ حدیث کے الفاظ سادہ ہیں اور بات بالکل واضح ہے کہ اسلام میں صفائی صرف کپڑوں یا ظاہری جگہوں تک محدود نہیں، بلکہ جسم کے ان حصوں کا خیال بھی رکھا گیا ہے جنہیں انسان اکثر نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس حدیث سے ہمیں فطرت، پاکیزگی اور ذاتی صفائی کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ ان اعمال کو معمول بنانے سے انسان اپنی صفائی کا بہتر خیال رکھ سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فطرت کی پانچ چیزیں حدیث میں واضح طور پر بیان ہوئی ہیں۔
- ناخن، مونچھ، بغل اور زیرناف کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔
- ذاتی صفائی دین کے مزاج سے جڑی ہوئی ہے۔
- حدیث جسمانی پاکیزگی کے عملی پہلو بتاتی ہے۔
