حدیث ۵۵۷
وضو میں سر کے مسح کا طریقہ حدیث سے
صحیح مسلم : ۵۵۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۷
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ، وَلَمْ يَقُلْ : مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ : فَأَقْبَلَ بِهِمَا ، وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ، ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ، وَغَسَلَ .
عمرو بن یحییٰ سے اسی اسناد سے روایت ہے، اس میں یہ ہے کہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔ تین بار اور یہ نہیں کہا کہ ایک چلو سے اور آگے سے لے گئے، اور پیچھے سے لے گئے، کے بعد اتنا زیادہ کیا کہ پہلے سر کا مسح آگے سے شروع کیا اور گدی تک لے گئے۔ پھر پھیر کر لائے۔ دونوں ہاتھوں کو اسی مقام پر جہاں سے شروع کیا تھا اور دونوں پاؤں دھوئے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۷ کا خلاصہ
یہ روایت وضو کے طریقے کی ایک اور تفصیل بیان کرتی ہے۔ عمرو بن یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ نقل ہے کہ کلی کی گئی اور ناک میں پانی ڈالا گیا، تین بار۔ اس روایت میں یہ الفاظ نہیں آئے کہ ایک ہی چلو سے کیا۔ پھر سر کے مسح کی وضاحت زیادہ تفصیل سے آئی ہے کہ پہلے سر کے اگلے حصے سے شروع کیا، ہاتھ گدی تک لے گئے، پھر واپس اسی جگہ لائے جہاں سے شروع کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں پاؤں دھوئے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع وضو میں سر کا مسح ہے۔ یہ روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ وضو کے طریقے میں بعض روایات ایک عمل کی مزید تفصیل بیان کرتی ہیں، اس لیے الفاظ کو ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وضو میں کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر تین بار آیا ہے۔
- سر کا مسح آگے سے شروع کر کے پیچھے لے جانے کا بیان موجود ہے۔
- روایت کے الفاظ وضو کے طریقے کی تفصیل سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
