حدیث ۵۳
راوی کی تبدیلی اور روایت قبول کرنے میں فرق
صحیح مسلم : ۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ ، قَبْلَ أَنْ يُحْدِثَ مَا أَحْدَثَ.
مسعر سے روایت ہے، ہم سے حدیث بیان کی جابر بن یزید نے اس سے پہلے جو اس نے نئی بات نکالی (یعنی بدمذہبی سے پہلے، اس سے معلوم ہوا کہ پہلے جابر کا اعتقاد درست تھا پھر فاسد ہو گیا)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۳ کا خلاصہ
اس روایت میں مسعر کہتے ہیں کہ جابر بن یزید نے انہیں حدیث بیان کی، اس سے پہلے کہ اس نے وہ نئی بات نکالی جو بعد میں ظاہر ہوئی۔ اس سے حدیث کی تحقیق کا ایک باریک اصول سامنے آتا ہے۔ محدثین صرف یہ نہیں دیکھتے کہ کسی راوی پر بعد میں کیا حکم لگا، بلکہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ روایت کس زمانے کی ہے۔ اگر کسی شخص کی حالت بعد میں بدل گئی ہو تو پہلے کی روایت اور بعد کی روایت کے بارے میں الگ گفتگو ہو سکتی ہے۔ البتہ یہ فیصلہ اہل علم کے اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔ یہاں متن صرف اتنا بتاتا ہے کہ جابر نے ایک تبدیلی سے پہلے روایت بیان کی تھی۔ اس لیے اس اثر سے ہمیں راوی کی حالت، وقت، اور روایت کی جانچ کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- راوی کی حالت وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے، اور اس کا اثر روایت پر پڑ سکتا ہے۔
- کسی روایت کا زمانہ جاننا حدیث کی تحقیق میں مدد دیتا ہے۔
- اہل علم راوی کے پہلے اور بعد کے حالات میں فرق کرتے تھے۔
- دینی بات نقل کرتے وقت وقت اور سند دونوں اہم ہیں۔
