حدیث ۴۳۱۱
غلام پر تہمت لگانے کی حدیث: زبان کے ظلم سے بچو
صحیح مسلم : ۴۳۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۱۱
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي نُعْمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ " ،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے غلام یا لونڈی کو زنا کی تہمت لگائے اس پر قیامت کے دن حد پڑے گی مگر جب کہ وہ سچا ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۱ کا خلاصہ
یہ حدیث غلام کے حقوق کا ایک اور پہلو سامنے لاتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائے، اس پر قیامت کے دن حد قائم کی جائے گی، مگر یہ کہ بات واقعی ویسی ہی ہو جیسی اس نے کہی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خادم یا مملوک کی عزت بھی محفوظ ہے۔ اسے کمزور سمجھ کر اس پر بڑا الزام لگا دینا جائز نہیں۔ تہمت زبان کا ظلم ہے، اور یہ حدیث بتاتی ہے کہ ایسا ظلم آخرت میں جواب طلبی کا سبب بن سکتا ہے۔ غلام کے حقوق صرف کھانے، کپڑے اور کام تک محدود نہیں، بلکہ اس کی آبرو بھی حق رکھتی ہے۔ اس لیے زبان استعمال کرتے وقت خوفِ خدا ضروری ہے، خاص طور پر اس شخص کے بارے میں جو اپنا دفاع آسانی سے نہ کر سکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلام یا لونڈی پر جھوٹی تہمت لگانا سخت گناہ ہے۔
- کمزور شخص کی عزت بھی محفوظ ہے۔
- زبان سے کیا گیا ظلم آخرت میں پکڑ کا سبب بن سکتا ہے۔
- بغیر سچائی کے بڑا الزام لگانے سے بچنا چاہیے۔
