حدیث ۴۲۵۹

قسم صرف اللہ کے نام کی: باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۵۹

وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ : أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ حَالِفًا ، فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا ، فَقَالَ : لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قسم کھانا چاہے وہ قسم نہ کھائے مگر اللہ کی۔“ قریش اپنے باپ دادؤں کی قسم کھایا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت کھاؤ قسم اپنے باپ دادوں کی۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۲۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص قسم کھانا چاہے وہ اللہ کے سوا کسی کی قسم نہ کھائے۔ پھر بیان ہوا کہ قریش اپنے باپ دادا کی قسم کھایا کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا کہ اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ۔ یہ حدیث قسم کے بارے میں بہت سیدھا اصول دیتی ہے۔ انسان کے دل میں اپنے خاندان، والدین اور بزرگوں کی عزت ہو سکتی ہے، مگر قسم کا مقام اللہ کے نام کے ساتھ ہے۔ اس لیے گفتگو میں “باپ کی قسم” یا “دادا کی قسم” جیسے الفاظ سے بچنا چاہیے۔ قسم کی حدیث ہمیں زبان کو درست کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اگر قسم کی واقعی ضرورت ہو تو اللہ کی قسم کھائی جائے، اور اگر بات بغیر قسم کے ہو سکتی ہے تو قسم نہ کھانا زیادہ بہتر رویہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قسم صرف اللہ کے نام کی ہونی چاہیے۔
  • باپ دادا کی قسم کھانے سے منع کیا گیا۔
  • پرانی معاشرتی عادت کو اسلام کے حکم کے مطابق بدلا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں