حدیث ۴۱۱۱
قرض میں بہتر ادائیگی: اچھے اخلاق کی نشانی
صحیح مسلم : ۴۱۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۱۱
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " اسْتَقْرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنًّا ، فَأَعْطَى سِنًّا فَوْقَهُ ، وَقَالَ : خِيَارُكُمْ مَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ قرض لیا پھر اس سے بڑھ کر ایک اونٹ دیا اور فرمایا: ”بہتر تم میں وہ لوگ ہیں جو اچھی قرض ادا کرتے ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۱۱ کا خلاصہ
اس روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ قرض لیا، پھر اس سے بڑھ کر اونٹ واپس کیا۔ اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض اچھی طرح ادا کرتے ہیں۔ یہ حدیث بہت مختصر ہے مگر اس کا پیغام واضح ہے۔ قرض کی ادائیگی صرف حساب پورا کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس میں اخلاق، نرمی اور حق دار کی خوش دلی کا بھی خیال ہو سکتا ہے۔ متن میں یہی بات آئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتر اونٹ دیا اور اسی موقع پر اچھی ادائیگی کو لوگوں کی خوبی بتایا۔ اس لیے مسلمان کو قرض کے معاملے میں بے پروا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ وقت اور انداز دونوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرض لیتے وقت واپس کرنے کی نیت اور فکر ہونی چاہیے۔
- اچھی ادائیگی کو بہتر لوگوں کی صفت بتایا گیا ہے۔
- حق واپس کرتے وقت نرم اور اچھا انداز اختیار کرنا چاہیے۔
- قرض کے معاملے میں بے توجہی مناسب نہیں۔
