حدیث ۴۰۸۵
کھجور، گیہوں اور درہم میں برابری کا حکم
صحیح مسلم : ۴۰۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۸۵
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ ، فَكُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ ، وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمَ بِدِرْهَمَيْنِ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم کو جمع کھجور ملا کرتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں، اور اس میں سب کھجوریں ملی رہتی تھیں تو ہم دو صاع اس کے ایک صاع کے بدلے بیچتے تھے یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور کے دو صاع ایک صاع کے بدلے نہ بیچنا چاہیے اسی طرح گیہوں کے دو صاع ایک صاع کے بدلے اور ایک درہم دو درہم کے بدلے نہ بیچنا چاہیے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں جمع کھجور کا ذکر ہے، جس میں مختلف قسم کی کھجوریں ملی ہوتی تھیں۔ صحابہ کے زمانے میں دو صاع جمع کھجور کو ایک صاع کے بدلے بیچا جاتا تھا۔ جب یہ بات رسول اللہ صلى الله عليه وسلم تک پہنچی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کھجور کے دو صاع ایک صاع کے بدلے نہ بیچے جائیں، اسی طرح گیہوں کے دو صاع ایک صاع کے بدلے اور ایک درہم دو درہم کے بدلے نہ ہو۔ یہاں سود کی حدیث بہت واضح ہے کہ جب جنس ایک ہو تو کمی بیشی خطرناک معاملہ ہے۔ حلال بیع میں ناپ، وزن اور مقدار کو صاف رکھنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی جنس کی چیز میں کمی بیشی سے بچنا چاہیے۔
- کھجور، گیہوں اور درہم کے معاملے میں برابری کا حکم آیا۔
- بازاری فائدے کے لیے سودی صورت اختیار نہیں کی جا سکتی۔
