حدیث ۳۹۹۴
نادار سے درگزر: قرض کے معاملے میں آسانی کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۹۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۹۴
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : " رَجُلٌ لَقِيَ رَبَّهُ ، فَقَالَ : مَا عَمِلْتَ ؟ قَالَ : مَا عَمِلْتُ مِنَ الْخَيْرِ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ رَجُلًا ذَا مَالٍ ، فَكُنْتُ أُطَالِبُ بِهِ النَّاسَ ، فَكُنْتُ أَقْبَلُ الْمَيْسُورَ ، وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمَعْسُورِ ، فَقَالَ : تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي " ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .
ربعی بن حراش سے روایت ہے، حذیفہ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں ملے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک شخص ملا اپنے پروردگار سے تو پروردگار نے پوچھا: تو نے کیا عمل کیا ہے؟ وہ بولا: میں نے کوئی نیکی نہیں کی۔ مگر یہ کہ میں مالدار شحص تھا، تو لوگوں سے اپنا قرض مانگتا، جو مالدار ہوتا اس کے کہنے کے موافق میں بیع کو توڑ ڈالتا۔ (یعنی جس معاملہ میں اس کو نقصان معلوم ہوتا اور وہ یہ چاہتا کہ معاملہ فسخ ہو جائے تو میں فسخ کر ڈالتا اپنے نفع کے لیے اس کا نقصان گوارہ نہیں کرتا) اور جو مفلس ہوتا اس کو معاف کر دیتا تو پروردگار نے فرمایا (فرشتوں سے): ”تم بھی درگزر کرو میرے بندے سے۔“ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۹۴ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو اپنے رب سے ملا۔ اس سے پوچھا گیا کہ کیا عمل کیا؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی نیکی نہیں کی، مگر میں مالدار تھا اور لوگوں سے اپنا قرض مانگتا تھا۔ جو مالدار ہوتا، اس کے معاملے میں وہ آسانی کرتا، اور جو مفلس ہوتا اسے معاف کر دیتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے سے درگزر کرو۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بھی کہا کہ میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے ایسا ہی سنا ہے۔ اس حدیث کا اصل سبق قرض دار کو معاف کرنا، نادار پر رحم، اور مالی معاملات میں نرم دل ہونا ہے۔ یہ کوئی عمومی دعویٰ نہیں بلکہ اسی عمل کی فضیلت ہے جو متن میں آیا ہے: معسر کے ساتھ درگزر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نادار کے ساتھ درگزر کو نیک عمل کے طور پر بیان کیا گیا۔
- مالدار ہوتے ہوئے بھی لوگوں سے نرمی کرنا قابل تعریف ہے۔
- قرض کے تقاضے میں سختی کے بجائے آسانی اختیار کی جا سکتی ہے۔
- حدیث میں اللہ کی طرف سے بندے سے درگزر کا ذکر آیا ہے۔
