حدیث ۳۹۵۶

مؤاجرہ کی حدیث: مزارعت سے ممانعت اور جائز کرایہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۵۶

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، فَسَأَلْنَاهُ : عَنِ الْمُزَارَعَةِ ، فَقَالَ : زَعَمَ ثَابِتٌ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ ، وَأَمَرَ بِالْمُؤَاجَرَةِ " ، وَقَالَ : لَا بَأْسَ بِهَا .

‏‏‏‏ عبداللہ بن السائب سے روایت ہے، ہم عبداللہ بن معقل کے پاس گئے اور ان سے پوچھا مزارعت (بٹائی) کو۔ انہوں نے کہا: ثابت نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا مزارعت سے اور حکم کیا مؤاجرۃ کا (یعنی روپے اشرفی پر کرایہ چلانے کا) اور فرمایا:”اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۹۵۶ کا خلاصہ

اس روایت میں عبداللہ بن السائب کہتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن معقل کے پاس گئے اور ان سے مزارعت یعنی بٹائی کے بارے میں پوچھا۔ عبداللہ بن معقل نے ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا اور مؤاجرہ کا حکم دیا، یعنی کرایہ پر دینے کی وہ صورت جس کا ذکر روایت میں مؤاجرہ کے نام سے آیا۔ پھر فرمایا کہ اس میں کوئی قباحت نہیں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع مزارعت اور مؤاجرہ کے فرق کو سمجھنا ہے۔ عام زبان میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ روایت نے ایک صورت سے روکا اور دوسری صورت کو بے قباحت بتایا۔ تاہم اس متن میں اس کی تمام شرائط تفصیل سے بیان نہیں ہوئیں، اس لیے شرح کو مختصر اور متن کے مطابق رکھنا ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مزارعت کے بارے میں ممانعت روایت میں آئی ہے۔
  • مؤاجرہ کا حکم اور اس میں کوئی قباحت نہ ہونا متن میں ذکر ہے۔
  • دینی معاملات میں سوال کر کے معتبر روایت سے رہنمائی لینا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں