حدیث ۳۹۵۲
معین کرایہ کی حدیث: زمین، سونا چاندی اور انصاف
صحیح مسلم : ۳۹۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۵۲
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ : عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ؟ فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِهِ ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ ، وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ ، فَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا ، وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا ، فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا ، فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ ، فَلَا بَأْسَ بِهِ " .
حنظلہ بن قیس انصاری نے کہا: میں نے رافع بن خدیج سے پوچھا: زمین کو کرایہ پر دینا سونے اور چاندی کے بدلے کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: اس میں کوئی قباحت نہیں۔ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہر کے کناروں پر اور نالیوں کے سروں پر جو پیداوار پر زمین کرایہ پر چلاتے تو بعض وقت ایک چیز تلف ہو جاتی دوسری بچ جاتی اور کبھی یہ تلف ہوتی اور وہ بچ جاتی، پھر بعض کو کچھ کرایہ نہیں ملتا مگر وہی جو بچ رہتا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اس سے، لیکن اگر کرایہ کے بدل کوئی معین چیز (جیسے روپیہ اشرفی غلہ وغیرہ) جس کی ذمہ داری ہو سکے ٹھہرے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۵۲ کا خلاصہ
اس روایت میں حنظلہ بن قیس انصاری نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینا کیسا ہے۔ رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میں کوئی قباحت نہیں۔ پھر انہوں نے وجہ بیان کی کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں لوگ نہر کے کناروں، نالیوں کے سروں یا کھیتی کے کچھ حصوں کی پیداوار پر زمین دیتے تھے۔ کبھی ایک حصہ تلف ہو جاتا اور دوسرا بچ جاتا، کبھی الٹ ہو جاتا۔ اس وجہ سے بعض کو کرایہ صرف اسی بچی ہوئی چیز سے ملتا۔ اسی صورت سے روکا گیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ اگر کرایہ کوئی معین، ذمہ داری والی چیز ہو تو اس میں قباحت نہیں۔ یہ حدیث زمین کرایہ حدیث میں اصل فرق کو آسان انداز میں سمجھاتی ہے: غیر واضح پیداوار پر معاملہ اور معین کرایہ ایک جیسے نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کرایہ ایسی چیز پر نہ ہو جس میں ایک طرف کا حق غیر واضح رہ جائے۔
- سونے چاندی یا معین ضمانت شدہ چیز کے بدلے کرایہ کو روایت میں بے قباحت کہا گیا۔
- متن کے مطابق ممانعت کی وجہ پیداوار کے مخصوص حصوں کے تلف ہونے کا خطرہ تھا۔
