حدیث ۳۸۷۱
میووں کی بیع: آفت سے پاک ہونے تک انتظار
صحیح مسلم : ۳۸۷۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۷۱
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى أَوْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، منع کیا ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میووں کے بیچنے سے جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں۔ (یعنی آفت سے)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میووں کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، یعنی آفت سے محفوظ ہو جائیں۔ یہ بات پھل کی بیع کی حدیث کو بہت آسان لفظوں میں سمجھا دیتی ہے۔ جب پھل ابھی خطرے میں ہو، بیماری یا خرابی کا اندیشہ ہو، یا اس کی حالت صاف نہ ہو تو اس کا سودا مناسب نہیں۔ اس حکم میں خریدار کی حفاظت بھی ہے اور بیچنے والے کے لیے بھی صاف معاملہ ہے۔ میووں کی خرید و فروخت میں جلد بازی کبھی دونوں کے لیے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ پھل کے بارے میں اطمینان ہو جائے، پھر بیع کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- میووں کی بیع میں آفت سے پاک ہونے کا انتظار کیا جائے۔
- غیر واضح حالت میں پھل کا سودا نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
- تجارت میں دونوں طرف کے اطمینان کا خیال رکھا جائے۔
