حدیث ۳۸۶۲

پھل کی بیع کی حدیث: صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے سودا نہیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۶۲

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ " .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا میووں کے بیچنے سے (درختوں پر) جب تک ان کی صلاحیت کا یقین نہ ہو، منع کیا بائع کو بیچنے سے اور خریدار کو خریدنے سے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۸۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں پر لگے پھل کی بیع سے منع فرمایا جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو۔ متن میں یہ بات بھی صاف ہے کہ منع صرف بیچنے والے کے لیے نہیں بلکہ خریدار کے لیے بھی ہے۔ اس لیے پھل کی بیع کی حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ خرید و فروخت میں ایسی چیز کا سودا نہ کیا جائے جس کی حالت ابھی واضح نہ ہو۔ جب پھل پر آفت کا خطرہ باقی ہو یا اس کے پکنے کا یقین نہ ہو تو بعد میں جھگڑا، نقصان یا شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس روایت میں سادہ اصول دیا گیا ہے: پہلے پھل کی حالت دیکھو، پھر سودا کرو۔ یہ بات تجارت میں احتیاط، صاف معاملہ، اور دونوں طرف کے حق کا خیال رکھنے کی طرف لے جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • درخت پر لگے پھل کی خرید و فروخت میں پختگی اور سلامتی کا انتظار کیا جائے۔
  • بیچنے والے اور خریدار دونوں کو ایسے سودے سے بچنا چاہیے جس میں آفت کا خطرہ باقی ہو۔
  • سودے میں جلدی کے بجائے چیز کی حالت صاف ہونے کو ترجیح دی جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں