حدیث ۳۸
دینداری کی تعریف، مگر حدیث نہ لو: روایت کا نازک معیار
صحیح مسلم : ۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ : قُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ : إِنَّ عَبَّادَ بْنَ كَثِيرٍ ، مَنْ تَعْرِفُ حَالَهُ ، وَإِذَا حَدَّثَ ، جَاءَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ ، فَتَرَى أَنْ أَقُولَ لِلنَّاسِ : لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ ؟ قَالَ سُفْيَانُ : بَلَى ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَكُنْتُ إِذَا كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ ، ذُكِرَ فِيهِ عَبَّادٌ ، أَثْنَيْتُ عَلَيْهِ فِي دِينِهِ ، وَأَقُولُ : لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ وَقَالَ مُحَمَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ أَبِي : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ : انْتَهَيْتُ إِلَى شُعْبَةَ ، فَقَالَ : هَذَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ فَاحْذَرُوهُ
عبداللہ بن مبارک نے کہا: میں نے سفیان ثوری سے پوچھا: تم جانتے ہو عباد بن کثیر کا حال جب حدیث بیان کرتا ہے تو ایک بلا لاتا ہے تو تمہاری کیا رائے ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دوں نہ روایت کرو اس سے۔ سفیان نے کہا: ہاں کہہ دو۔ عبداللہ نے کہا: پھر جس مجلس میں میں ہوتا اور عباد بن کثیر کا ذکر آتا تو میں اس کی دینداری کی تعریف کرتا لیکن کہہ دیتا کہ مت روایت کرو حدیث کو۔ عبداللہ بن مبارک نے کہا: میں شعبہ کے پاس گیا۔ انہوں نے کہا: یہ عباد بن کثیر ہے اس سے بچو (یعنی اس سے روایت کرنے میں)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸ کا خلاصہ
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے سفیان ثوری سے عباد بن کثیر کے بارے میں پوچھا کہ کیا لوگوں کو بتا دوں کہ اس سے روایت نہ لیں؟ سفیان نے ہاں کہا۔ پھر عبداللہ بن مبارک جب کسی مجلس میں عباد کا ذکر سنتے تو اس کی دینداری کی تعریف کرتے، مگر ساتھ کہتے کہ اس سے حدیث نہ لو۔ بعد میں شعبہ نے بھی اس سے بچنے کو کہا۔ یہ روایت بہت متوازن سبق دیتی ہے۔ ایک شخص دین دار ہو سکتا ہے، مگر حدیث روایت میں قابل اعتماد نہ ہو۔ اس لیے جرح و تعدیل ذاتی دشمنی نہیں، بلکہ روایت کے معیار کی بات ہے۔ صحیح حدیث کی پہچان میں دینداری کے ساتھ ضبط اور روایت کی مضبوطی بھی دیکھی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کی دینداری کا احترام کیا جا سکتا ہے، مگر روایت میں احتیاط الگ چیز ہے۔
- حدیث لینے کا معیار صرف نیکی نہیں، روایت کی مضبوطی بھی ہے۔
- اہل علم کمزور راوی سے بچنے کی نصیحت کرتے تھے۔
- راوی پر علمی کلام ذاتی عیب جوئی کے لیے نہیں ہوتا۔
