حدیث ۳۷۲۸
جاہلیت میں بیوہ کے سوگ کی رسم کیا تھی؟ حدیث کی وضاحت
صحیح مسلم : ۳۷۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۲۸
قَالَ حُمَيْدٌ : قُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ ؟ فقَالَت زَيْنَبُ : كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا ، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا ، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا ، حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ ، ثُمَّ تَخْرُجُ ، فَتُعْطَى بَعْرَةً ، فَتَرْمِي بِهَا ، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ .
حمید جو راوی ہے اس حدیث کا اس نے کہا: میں نے زینب سے پوچھا اس کا کیا مطلب ہے؟ زینب نے کہا: (جاہلیت کے زمانے میں) جب عورت کا خاوند مر جاتا تو وہ ایک گھونسلے میں گھس جاتی۔ برے سے برا کپڑا پہنتی۔ نہ خوشبو لگاتی، نہ کچھ اور یہاں تک کہ ایک سال گزر جاتا پھر ایک جانور اس کے پاس لاتے گدھا یا بکری یا چڑیا جس سے وہ اپنی عدت توڑتی (اس جانور کو اپنی کھال پر رگڑتی یا اپنا ہاتھ اس پر پھیرتی) ایسا بہت کم ہوتا کہ وہ جانور زندہ رہتا (اکثر مر جاتا کچھ شیطان کا اثر ہو گا یا اس کے بدن پر میلی کچیلی ایک گھونسلے میں رہنے سے زہردار مادہ چڑھ جاتا ہو گا جو جانور پر اثر کرتا ہو گا) پھر وہ باہر نکلتی ایک مینگنی اس کو دیتے اس کو پھینک کر پھر جو چاہتی خوشبو وغیرہ لگاتی۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۲۸ کا خلاصہ
اس روایت میں حمید نے زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے۔ زینب رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ جاہلیت میں جب عورت کا شوہر فوت ہو جاتا تو وہ ایک تنگ جگہ میں چلی جاتی، بہت برا کپڑا پہنتی، خوشبو یا کوئی اور ایسی چیز استعمال نہ کرتی، یہاں تک کہ ایک سال گزر جاتا۔ پھر ایک جانور لایا جاتا، وہ اس کے ذریعے اپنی عدت ختم کرنے کی رسم کرتی، پھر باہر آتی، اسے مینگنی دی جاتی، وہ اسے پھینکتی، پھر خوشبو وغیرہ استعمال کرتی۔ اس روایت کا مقصد وہ پرانی رسم سمجھانا ہے جس کا ذکر پچھلی حدیث میں آیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے سوگ کی مدت کو واضح اور مقرر کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جاہلیت میں بیوہ کے سوگ کی رسم بہت لمبی اور سخت تھی۔
- حدیث کے مشکل لفظ کو سمجھنے کے لیے اہل علم سے پوچھنا درست ہے۔
- اسلام نے عدت اور سوگ کی مدت کو واضح کیا۔
- پرانی رسمیں دینی حکم کی جگہ نہیں لے سکتیں۔
