حدیث ۳۷
راوی سے ملاقات کافی نہیں، اعتبار بھی ضروری ہے
صحیح مسلم : ۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِر ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : قَال شُعْبَةُ : وَقَدْ لَقِيتُ شَهْرًا ، فَلَمْ أَعْتَدَّ بِهِ
شبابہ بیان کرتے ہیں کہ شعبہ نے کہا میں شھر بن حوشب سے ملا ہوں مگر میں اس کی روایت کو شمار نہیں کرتا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷ کا خلاصہ
شعبہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ وہ شہر بن حوشب سے ملے، مگر اس کی روایت کو شمار نہیں کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف کسی راوی سے ملاقات ہو جانا روایت کے قبول ہونے کے لیے کافی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ راوی حدیث کے معیار پر کتنا پورا اترتا ہے۔ حدیث کی تحقیق میں ثقہ راوی، ضبط، دیانت اور اہل علم کی رائے کو دیکھا جاتا ہے۔ یہ روایت ہمیں صحیح حدیث کی پہچان کا ایک عملی پہلو بتاتی ہے۔ کسی شخص کی موجودگی، شہرت یا ملاقات روایت کو خود بخود قابل اعتماد نہیں بناتی۔ دینی علم میں قبول و رد کا معیار تحقیق پر قائم ہے، نہ کہ صرف تعلق یا ملاقات پر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- راوی سے ملاقات ہو جانا روایت کے قبول ہونے کے لیے کافی نہیں۔
- حدیث میں راوی کا اعتبار علمی معیار سے دیکھا جاتا ہے۔
- اہل علم بعض راویوں کو جانتے ہوئے بھی ان کی روایت نہیں لیتے تھے۔
- صحیح حدیث کی پہچان میں شخصیت نہیں، قابل اعتماد نقل اہم ہے۔
