حدیث ۳۶۷۸
شہد والی حدیث: سورۃ تحریم کی آیات کا پس منظر
صحیح مسلم : ۳۶۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۷۸
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يُخْبِرُ أَنَّهُ : سَمِعَ عَائِشَةَ ، تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ ، عَنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ ، عَنْدَهَا عَسَلًا ، قَالَت : فَتَوَاطَأتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْتَقُلْ : إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا ، فقَالَت ذَلِكَ لَهُ ، فقَالَ : " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عَنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ " ، فَنَزَلَ : لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِلَى قَوْلِهِ : إِنْ تَتُوبَا سورة التحريم آية 1 - 4 ، لِعَائِشَةَ ، وَحَفْصَةَ ، وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3 ، لِقَوْلِهِ : بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا " .
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بی بی زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرا کرتے اور ان کے پاس شہد پیا کرتے تھے سو بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایکا کیا کہ جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرے کہ میں آپ کے پاس سے بدبو مغافیر کی پاتی ہوں۔ سو آپ ایک کے پاس جب آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ میں نے زینب کے پاس شہد پیا ہے اور اب کبھی نہ پیوں گا۔“ پھر یہ آیت اتری «لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ» (۶۶-التحریم:۱-۴) سے اخیر تک یعنی ”اے نبی! کیوں حرام کرتا ہے تو اس چیز کو جس کو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے۔“ اور فرمایا: کہ اگر توبہ کریں وہ دونوں تو دل ان کے جھک رہے ہیں۔“ اور مراد ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں اور یہ جو فرمایا: «وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِىُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا» ”کہ ”چپکے سے ایک بات کہی نبی نے اپنی کسی بی بی سے۔“ تو مراد اس سے وہی بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے شہد پیا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۷۸ کا خلاصہ
یہ حدیث شہد والی حدیث کے نام سے بہت تلاش کی جاتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور وہاں شہد پیتے تھے۔ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما نے آپس میں طے کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مغافیر کی بو کا ذکر کیا جائے۔ جب ایسا کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے زینب کے پاس شہد پیا ہے اور اب نہیں پیوں گا۔ پھر سورۃ التحریم کی آیات نازل ہوئیں: “آپ کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا؟” اس روایت میں اصل بات حلال چیز کو اپنے اوپر روکنے اور اس واقعے کی قرآنی نشاندہی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ آپ نے زینب رضی اللہ عنہا کے پاس شہد پیا تھا۔
- حدیث میں عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کا ذکر آتا ہے۔
- سورۃ التحریم کی آیات اسی واقعے کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔
- حلال چیز کو اپنے اوپر روکنے کا معاملہ قرآن میں ذکر ہوا۔
