حدیث ۳۶
راوی پر کلام ہو تو روایت میں احتیاط
صحیح مسلم : ۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّضْرَ ، يَقُولُ : سُئِلَ ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ حَدِيثٍ لِشَهْرٍ ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْبَابِ ، فَقَالَ : إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ ، إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ ، قَالَ مٌسْلِمٌ : رَحِمَهُ اللَّهُ ، يَقُولُ : أَخَذَتْهُ أَلْسِنَةُ النَّاسِ تَكَلَّمُوا فِيهِ
نضر بن شمیل سے روایت ہے، ابن عون سے کسی نے پوچھا: شھر بن حوشب کی حدیث کو اور وہ کھڑے تھے دروازہ کی چوکھٹ پر انہوں نے کہا: شہر کو لوگوں نے ترک کیا۔ شہر کو لوگوں نے ترک کیا۔ مسلم نے کہا: ترک کرنے سے مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے اس میں کلام کیا اور اس کے حق میں جرح اور طعن کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶ کا خلاصہ
اس روایت میں ابن عون رحمہ اللہ سے شہر بن حوشب کی حدیث کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کو لوگوں نے ترک کیا۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے وضاحت کی کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے اس کے بارے میں کلام کیا اور اس پر جرح کی۔ یہ روایت جرح و تعدیل کے عملی انداز کو دکھاتی ہے۔ کسی راوی کے بارے میں اہل علم کا کلام حدیث قبول کرنے میں اہم ہوتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ نہیں کہ ہر شخص خود فیصلہ کرے، بلکہ یہ کہ حدیث کے ماہرین راویوں کے حالات جانچتے تھے۔ صحیح حدیث کی پہچان میں راوی کی حالت، اس پر اعتماد، اور اہل علم کی رائے اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جس راوی پر اہل علم کلام کریں، اس کی روایت میں احتیاط کی جاتی ہے۔
- جرح کا مطلب ذاتی حملہ نہیں، روایت کے معیار کی جانچ ہے۔
- حدیث قبول کرنے میں راوی کے بارے میں ماہرین کی رائے دیکھی جاتی ہے۔
- مشتبہ راوی کی روایت کو فوراً قبول کرنا درست طریقہ نہیں۔
