حدیث ۳۴۳۲
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نکاح متعہ پر تنبیہی بیان
صحیح مسلم : ۳۴۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۳۲
وحدثناه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حدثنا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ لِفُلَانٍ : إِنَّكَ رَجُلٌ تَائِهٌ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ .
مالک سے اسی اسناد سے مروی ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ تو تو ایک شخص بھٹکا ہوا ہے سیدھی راہ سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا متعہ سے آگے وہی مضمون ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۳۲ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے کلام کو نقل کرتی ہے۔ انہوں نے ایک شخص سے فرمایا کہ تو سیدھی راہ سے بھٹکا ہوا شخص ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کا وہی مضمون بیان کیا جو پچھلی روایت میں آیا تھا۔ اس حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ متعہ کے معاملے میں ممانعت کو واضح کر رہے تھے۔ چونکہ روایت خود مختصر ہے اور اسے پچھلی حدیث کے مضمون کے ساتھ جوڑتی ہے، اس لیے اس سے یہی بات لی جا سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع فرمایا تھا۔ اس روایت میں انداز تنبیہ کا ہے، مگر اصل دینی نکتہ نکاح متعہ سے ممانعت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے متعہ کے مسئلے میں ممانعت یاد دلائی۔
- غلط فہمی پر نرمی سے نہیں بلکہ واضح تنبیہ بھی کی جا سکتی ہے۔
- روایت سابقہ حدیث کے مضمون کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
- متعہ کے حکم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت اصل بنیاد ہے۔
