حدیث ۳۴

دینی بات میں علم نہ ہو تو خاموش رہنا بہتر ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴

وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، يَقُولُ : أَخْبَرُونِي ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ صَاحِبِ بُهَيَّةَ ، أَنَّ أَبْنَاءً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، سَأَلُوهُ عَنْ شَيْءٍ ، لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ فِيهِ عِلْمٌ ، فَقَالَ لَهُ يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُعْظِمُ أَنْ يَكُونَ مِثْلُكَ وَأَنْتَ ابْنُ إِمَامَيِ الْهُدَى يَعْنِي عُمَرَ وَابْنَ عُمَرَ ، تُسْأَلُ عَنْ أَمْرٍ لَيْسَ عِنْدَكَ فِيهِ عِلْمٌ ، فَقَالَ : أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ ، وَاللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ ، وَعِنْدَ مَنْ عَقَلَ عَنِ اللَّهِ ، أَنْ أَقُولَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ، أَوْ أُخْبِرَ ، عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ ، قَالَ : وَشَهِدَهُمَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، حِينَ قَالَا ذَلِك

‏‏‏‏ ابوعقیل سے روایت ہے جو صاحب تھا بہیہ کا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے کوئی بات پوچھی جس کا جواب ان کو نہ آیا۔ یحییٰ بن سعید نے ان سے کہا کہ یہ امر مجھ پر بہت گراں گزرا کہ تمہارے جیسا شخص جو بیٹا ہے دو بڑے اماموں یعنی سیدنا عمر اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اس سے کوئی بات پوچھی جائے اور وہ بتلا نہ سکے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اور اس سے بڑھ کر اللہ کے نزدیک اور اس کے نزدیک جس کو اللہ نے عقل دی یہ بات ہے کہ میں کہوں اور مجھے علم نہ ہو یا روایت کروں اس شخص سے جو ثقہ نہ ہو۔ سفیان نے کہا: یحییٰ بن متوکل یعنی ابوعقیل اس گفتگو کے وقت موجود تھے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۴ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا، مگر ان کے پاس اس کا علم نہ تھا۔ یحییٰ بن سعید نے اس پر تعجب کیا، مگر جواب میں کہا گیا کہ اللہ کے نزدیک اس سے بڑی بات یہ ہے کہ کوئی شخص بغیر علم کے کہے یا غیر ثقہ سے روایت کرے۔ یہ بات دینی علم میں ایک سادہ مگر مضبوط اصول بتاتی ہے۔ ہر سوال کا جواب دینا لازم نہیں، خاص طور پر جب علم نہ ہو۔ حدیث روایت کرنے میں ثقہ راوی، سند حدیث اور تحقیق ضروری ہے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ علمی عاجزی کمزوری نہیں، بلکہ دین کی امانت کو بچانے کا طریقہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • علم نہ ہونے پر خاموش رہنا غلط جواب دینے سے بہتر ہے۔
  • دین میں خاندانی یا علمی نسبت بھی بغیر علم بات کہنے کی اجازت نہیں دیتی۔
  • غیر ثقہ سے روایت کرنا سخت احتیاط کا معاملہ ہے۔
  • دینی سوالات میں امانت داری عزت دکھانے سے زیادہ اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں