حدیث ۳۳۶۷
مدینہ ویران ملنے اور مزینہ کے دو چرواہوں کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۳۶۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۶۷
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ ، لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِي يُرِيدُ : عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ ، ثُمَّ يَخْرُجُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يُرِيدَانِ الْمَدِينَةَ ، يَنْعِقَانِ بِغَنَمِهِمَا ، فَيَجِدَانِهَا وَحْشًا حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: ”لوگ مدینہ کو چھوڑ دیں گے اور وہ بہتر ہو گا اور نہ رہے گا اس میں کوئی مگر درندے اور پرندے، پھر نکلیں گے دو چرواہے قبیلہ مزینہ سے ارادہ کرتے ہوں گے مدینہ کا، للکارتے ہوں گے اپنی بکریوں کو اور پائیں گے مدینہ کو ویران یہاں تک کہ جب پہنچیں گے ثنیتہ الوداع تک کہ ٹیلہ ہے گر پڑیں گے اپنے منہ کے بل۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۳۶۷ کا خلاصہ
یہ حدیث مدینہ کے بارے میں ایک خاص خبر بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ مدینہ کو چھوڑ دیں گے، حالانکہ وہ بہتر حال میں ہوگا۔ پھر اس میں درندوں اور پرندوں کے سوا کوئی نہ رہے گا۔ حدیث میں آگے مزینہ قبیلے کے دو چرواہوں کا ذکر ہے جو اپنی بکریوں کو پکارتے ہوئے مدینہ کا ارادہ کریں گے۔ وہ مدینہ کو ویران پائیں گے، یہاں تک کہ جب ثنیۃ الوداع تک پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے۔ یہ مضمون مدینہ کی فضیلت، اس کی خاص حالت، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبر سے متعلق ہے۔ ہمیں اس روایت میں بیان کردہ باتوں ہی پر رہنا چاہیے اور اپنی طرف سے وقت، تفصیل یا وجہ مقرر نہیں کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص خبر دی۔
- حدیث میں ویرانی کا ذکر ہے، مگر مدینہ کی خیر بھی بیان ہوئی ہے۔
- غیبی خبروں میں اپنی طرف سے وقت یا تفصیل مقرر نہیں کرنی چاہیے۔
