حدیث ۳۳۶۴
مدینہ چھوڑنے والوں کے لیے نصیحت: مدینہ بہتر تھا
صحیح مسلم : ۳۳۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۶۴
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُفْتَحُ الشَّامُ ، فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، ثُمَّ تُفْتَحُ الْيَمَنُ ، فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، ثُمَّ تُفْتَحُ الْعِرَاقُ ، فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ " .
سفیان نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شام فتح ہو گا اور کچھ لوگ مدینہ سے نکلیں گے اپنے گھر والوں کے ساتھ اونٹوں کو ہانکتے ہوئے اور مدینہ ان کے لئے بہتر تھا کاش وہ جانتے ہوتے، پھر فتح ہو گا یمن اور نکلے گی ایک قوم مدینہ کی اپنے گھر والوں کے ساتھ اونٹوں کو ہانکتے ہوئے اور مدینہ ان کے حق میں بہتر تھا کاش وہ جانتے، پھر فتح ہو گا عراق اور نکلے گی ایک قوم مدینہ کی اپنے گھر والوں کے ساتھ اونٹوں کو ہانکتے ہوئے اور مدینہ ان کے حق میں بہتر تھا کاش وہ جانتے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۳۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع مدینہ کی فضیلت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ شام فتح ہوگا، پھر کچھ لوگ اپنے گھر والوں کے ساتھ مدینہ سے نکلیں گے۔ اسی طرح یمن اور عراق کے بارے میں بھی فرمایا کہ وہ فتح ہوں گے اور کچھ لوگ اپنے اہل کے ساتھ مدینہ چھوڑ کر جائیں گے۔ ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا، کاش وہ جانتے ہوتے۔ اس حدیث میں مدینہ کی برتری کو بہت سادہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ ہر سفر غلط ہے، بلکہ خاص طور پر ان لوگوں کا ذکر ہے جو فتوحات کے بعد اپنے اہل کے ساتھ مدینہ چھوڑیں گے۔ اس لیے بات کو حدیث کے الفاظ تک رکھنا چاہیے: مدینہ ان کے حق میں بہتر تھا اگر وہ جانتے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ کی فضیلت اس حدیث میں بار بار بیان ہوئی ہے۔
- ہر ظاہری موقع انسان کے لیے بہتر ہو، یہ ضروری نہیں۔
- دین کے معاملے میں خیر کو پہچاننا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
