حدیث ۳۲۵۷
حج فرض ہے: حکم پر طاقت کے مطابق عمل
صحیح مسلم : ۳۲۵۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۵۷
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوا " ، فقَالَ رَجُلٌ : أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ ، لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ، ثُمَّ قَالَ : ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خطبہ پڑھا ہم پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اور فرمایا: ”کہ اے لوگو! تم پر حج فرض ہوا ہے سو حج کرو۔“ ایک شخص نے کہا کہ ہر سال یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے اس نے تین بار یہی عرض کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال واجب ہوتا اور پھر تم سے نہ ہو سکتا سو تم مجھے اتنی ہی بات پر چھوڑ دو کہ جس پر میں تمہیں چھوڑ دوں اس لیے کہ اگلے لوگ اسی سبب سے ہلاک ہوئے ہیں کہ انہوں نے اپنے انبیا علیہم السلام سے بہت سوال کیے اور ان سے بہت اختلاف کرتے رہے پھر جب میں تم کو کسی بات کا حکم دوں اس میں سے جتنا ہو سکے بجا لاؤ اور جب کسی بات سے منع کروں اس کو چھوڑ دو“۔
صحیح مسلم حدیث ۳۲۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے خطبہ میں فرمایا: اے لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے، سو حج کرو۔ ایک شخص نے پوچھا: کیا ہر سال؟ آپ صلى الله عليه وسلم خاموش رہے، اس نے تین بار سوال کیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال واجب ہو جاتا اور تم سے نہ ہو پاتا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مجھے اسی پر چھوڑ دو جس پر میں تمہیں چھوڑ دوں۔ پچھلی قومیں زیادہ سوالات اور اپنے انبیا سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ جب میں کسی بات کا حکم دوں تو جتنا ہو سکے کرو، اور جس سے منع کروں اسے چھوڑ دو۔ اس حدیث کا موضوع حج فرض ہے اور دین میں آسانی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج کی فرضیت کا اعلان صاف لفظوں میں کیا گیا۔
- غیر ضروری سوال کبھی حکم کو مشکل بنا سکتا ہے۔
- حکم پر اپنی طاقت کے مطابق عمل کرنے کا اصول بیان ہوا۔
- منع کی گئی چیز کو چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا۔
