حدیث ۳۱۵
ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ: خطیب انصار اور نبی صلى الله عليه وسلم کا ادب
صحیح مسلم : ۳۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۵
وحَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ خَطِيبَ الأَنْصَار ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْر سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ .
دوسری روایت میں یوں ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ انصار کے خطیب تھے۔ پھر جب یہ آیت اتری اخیر تک اور اس میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۵ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کی ایک دوسری سند اور مختصر بیان ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ انصار کے خطیب تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اپنی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند نہ کرو، تو وہ گھبرا گئے۔ اس روایت میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں، مگر اصل مضمون وہی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز کے ادب کا معاملہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ آیت کو سن کر اپنے اوپر لاگو کرتے اور ڈرتے تھے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا ادب، آواز بلند نہ کرنا، اور ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کا واقعہ اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب میں آواز کا خیال رکھنا بتایا گیا۔
- ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ انصار کے خطیب تھے۔
- صحابہ آیات سن کر اپنے عمل کا جائزہ لیتے تھے۔
