حدیث ۳۱۴۱
رمی جمار کا وقت: نحر کے دن اور بعد کے دنوں کی سنت
صحیح مسلم : ۳۱۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۴۱
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، وَابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى ، وَأَمَّا بَعْدُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ " ،
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں ماریں جمرہ کو نحر کے دن، پہر دن چڑھے اور بعد کے دنوں میں جب آفتاب ڈھل گیا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو بہت سادہ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ حج میں رمی جمار ایک مقرر عمل ہے، مگر اس کے وقت کا جاننا حاجی کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔ روایت بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نحر کے دن جمرہ کو کنکریاں دن چڑھے ماریں۔ پھر بعد کے دنوں میں رمی اس وقت کی جب آفتاب ڈھل گیا۔ اس سے حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ حج کے اعمال میں وقت کا خیال رکھا جائے۔ رمی جمار کا وقت، جمرہ عقبہ کی رمی، اور زوال کے بعد کنکریاں مارنا جیسے سوالات کا جواب اسی روایت میں ملتا ہے۔ یہاں بات صرف اسی عمل تک محدود ہے جو روایت میں آیا ہے: نحر کے دن چاشت کا وقت، اور بعد کے دنوں میں زوال کے بعد رمی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نحر کے دن جمرہ کی رمی دن چڑھے کی گئی۔
- بعد کے دنوں میں رمی سورج ڈھلنے کے بعد کی گئی۔
- حج کے اعمال میں وقت کی پابندی کا خیال رکھا جاتا ہے۔
- حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو اصل رہنمائی بنایا گیا ہے۔
