حدیث ۲۹۵۱
عرفات میں وقوف کی حدیث: قریش کے رواج سے الگ نبوی عمل
صحیح مسلم : ۲۹۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۵۱
وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيل ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ : وَكَانَتِ الْعَرَبُ يَدْفَعُ بِهِمْ أَبُو سَيَّارَةَ عَلَى حِمَارٍ عُرْيٍ ، فَلَمَّا أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ، لَمْ تَشُكَّ قُرَيْشٌ أَنَّهُ سَيَقْتَصِرُ عَلَيْهِ وَيَكُونُ مَنْزِلُهُ ، ثَمَّ فَأَجَازَ وَلَمْ يَعْرِضْ لَهُ حَتَّى أَتَى عَرَفَاتٍ فَنَزَلَ .
جعفر بن محمد نے کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا حال پوچھا اور انہوں نے بیان کی حدیث جیسے حاتم بن اسماعیل نے بیان کی تھی اور اس میں اتنا زیادہ کیا کہ عرب کا قاعدہ تھا (یعنی ایام جاہلیت میں) کہ ابوسیارہ (ایک شخص کی کنیت ہے) ان کو مزدلفہ سے لوٹا لاتا تھا (اور عرفات کو لے جاتا تھا) پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے آگے بڑھے تو قریش نے یقین کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم المشعر الحرام میں ٹھہریں گے اور وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل ہو گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے بھی آگے بڑھ گئے اور اس سے کچھ تعرض نہ کیا یہاں تک کہ عرفات پہنچے (یعنی قریب عرفات) اور وہاں اترے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۵۱ کا خلاصہ
اس روایت کا اصل موضوع عرفات پہنچنا اور وہاں اترنا ہے۔ جعفر بن محمد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے پچھلی طویل حدیث کے مضمون جیسا بیان کیا اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ عرب کا ایک سابقہ قاعدہ تھا، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ کے پاس سے آگے بڑھے تو قریش کو گمان تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشعر حرام ہی پر ٹھہریں گے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے گزر گئے اور عرفات پہنچ کر اترے۔ اس حدیث میں عرفات، مزدلفہ، مشعر حرام، اور حجۃ الوداع کے سفر کا ایک خاص حصہ سامنے آتا ہے۔ بات بہت صاف ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ کا رخ کیا جہاں حج کے وقوف کا عمل تھا، اور قریش کے پرانے گمان پر نہیں رکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشعر حرام سے آگے بڑھ کر عرفات پہنچے۔
- قریش کو آپ کے مشعر حرام پر ٹھہرنے کا گمان تھا۔
- روایت میں حجۃ الوداع کے سفر کا ایک خاص مرحلہ بیان ہوا ہے۔
- حج کے عمل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ پرانے رواج پر مقدم ہے۔
