حدیث ۲۹۰۰
محرم میت کا چہرہ کھلا رکھنا اور تلبیہ کے ساتھ اٹھنا
صحیح مسلم : ۲۹۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۰۰
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَصَتْ رَجُلًا رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَأَنْ يَكْشِفُوا وَجْهَهُ ، حَسِبْتُهُ قَالَ : وَرَأْسَهُ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يُهِلُّ " .
زید بن اسلم نے اس اسناد سے یہی روایت کی اور کہا کہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیرے اپنے سارے سر پر آگے اور پیچھے اور سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں آج سے آپ سے تکرار نہ کروں گا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۰۰ کا خلاصہ
اس روایت میں ابو الزبیر کے واسطے سے سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک شخص کی سواری نے اسے زخمی کر دیا جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دیا جائے، اس کا چہرہ کھلا رکھا جائے، اور راوی کے گمان کے مطابق سر بھی۔ پھر وجہ بیان ہوئی کہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھے گا۔ یہاں احتیاط ضروری ہے، کیونکہ متن میں راوی نے سر کے بارے میں حسبته قال کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس لیے محرم کا جنازہ، احرام میں وفات، چہرہ کھلا رکھنا، اور قیامت کے دن تلبیہ جیسے الفاظ درست رہیں گے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چہرہ کھلا رکھنے کا حکم واضح طور پر آیا ہے۔
- سر کے بارے میں راوی نے گمان کے الفاظ بیان کیے ہیں، اس لیے بیان میں احتیاط چاہیے۔
- قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے اٹھنے کا ذکر موجود ہے.
