حدیث ۲۸۹۹
محرم میت کا سر باہر رکھنا اور خوشبو سے پرہیز
صحیح مسلم : ۲۸۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۹۹
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافعٍ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ : أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يُحَدِّثُ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ فَأَقْعَصَتْهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ ، وَلَا يُمَسَّ طِيبًا ، خَارِجٌ رَأْسُهُ " ، قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ : " خَارِجٌ رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا " .
ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مسور بن محزمہ رضی اللہ عنہ میں تکرار ہوئی ابواء میں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم سر دھوئے اور مسور نے کہا: نہیں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے پاس مجھے بھیجا کہ ان سے پوچھیں تو میں نے ان کو پایا کہ وہ کنوئیں کی دو لکڑیوں کے بیچ میں نہا رہے تھے اور وہ ایک کپڑے کی آڑ میں تھے اور میں نے ان سے سلام علیک کی اور انہوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ میں نے کہا کہ میں عبداللہ بن حنین ہوں اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے کہ میں پوچھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام میں کیسے سر دھوتے تھے؟ پس سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ کپڑے پر رکھے اور سر جھکایا یہاں تک کہ مجھے نظر آیا اور اس آدمی سے کہا جو ان پر پانی ڈالتا تھا کہ ڈالو پھر وہ اپنے سر کو ہلاتے تھے اور اپنے ہاتھ سے ملتے تھے آگے اور پیچھے، پھر کہا میں نے ایسے ہی دیکھا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۹ کا خلاصہ
اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، وہ احرام میں تھا، سواری سے گرا اور فوت ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دیا جائے، دو کپڑوں میں کفن دیا جائے، خوشبو نہ لگائی جائے، اور اس کا سر باہر رہے۔ شعبہ کے بیان میں بعد میں سر اور چہرہ دونوں کا ذکر آیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع محرم کا جنازہ ہے۔ احرام میں وفات، محرم میت کا سر، محرم میت کا چہرہ کھلا رکھنا، اور حج میں میت کا جنازہ جیسے الفاظ اس روایت کو تلاش کرنے والوں کے لیے مناسب ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں سر باہر رکھنے کا ذکر آیا ہے۔
- بعد کے بیان میں سر اور چہرہ دونوں کا ذکر محفوظ ہے۔
- خوشبو نہ لگانا بھی اسی متن کا حصہ ہے.
