حدیث ۲۸۶۱
حرم میں ایذا دینے والے جانوروں کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۸۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۶۱
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مِقْسَمٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَرْبَعٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ : الْحِدَأَةُ وَالْغُرَابُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ : أَفَرَأَيْتَ الْحَيَّةَ ؟ ، قَالَ : " تُقْتَلُ بِصُغْرٍ لَهَا " .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بی بی صاحبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: ”چار چیزیں شریر ہیں کہ قتل کی جاتی ہیں حل و حرم میں چیل اور کوا اور چوہا اور کٹ کھنا کتا۔“ (راوی نے) کہا: میں نے اپنے شیخ قاسم سے پوچھا کہ بھلا فرمائیے سانپ کو، تو انہوں نے کہا: مارا جائے ذلت سے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حرم میں ایذا دینے والے جانور ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کا ذکر فرمایا جنہیں حل اور حرم دونوں جگہ قتل کیا جاتا ہے: چیل، کوا، چوہا اور کٹ کھنا کتا۔ روایت کے آخر میں سانپ کے بارے میں قاسم رحمہ اللہ سے سوال ہوا تو انہوں نے بھی اسے مارنے کی بات کی۔ اس سے بات یہ سمجھ آتی ہے کہ احرام یا حرم کی حرمت کے باوجود ایسے جانور جو نقصان یا ایذا کا سبب بن سکتے ہوں، ان کے بارے میں الگ حکم ہے۔ یہ حدیث حج و عمرہ کے مسائل میں اس لیے زیادہ تلاش کی جاتی ہے کہ لوگ پوچھتے ہیں: محرم کون سے جانور مار سکتا ہے، حرم میں جانور قتل کرنا جائز ہے یا نہیں، اور ایذا رساں جانور کا کیا حکم ہے۔ متن میں جن جانوروں کا نام آیا ہے، بات اسی حد تک رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حرم کی حرمت کے باوجود بعض ایذا دینے والے جانوروں کے بارے میں خاص حکم آیا ہے۔
- حدیث میں چیل، کوا، چوہا اور کٹ کھنے کتے کا نام صاف طور پر موجود ہے۔
- سانپ کے بارے میں راوی نے سوال کیا تو قاسم رحمہ اللہ نے اسے بھی مارنے کی بات کی۔
- حج و عمرہ کے مسائل میں جانوروں کے حکم کو حدیث کے الفاظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
