حدیث ۲۴۸۵
بریرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث: صدقہ اور ہدیہ کا فرق
صحیح مسلم : ۲۴۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۸۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : أَهْدَتْ بَرِيرَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمًا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَيْهَا ، فَقَال : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہدیہ دیا سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ گوشت کہ اس کو کسی نے صدقہ دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا اور فرمایا: ”ان کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم کو گوشت ہدیہ کیا، حالانکہ وہ گوشت انہیں صدقہ کے طور پر ملا تھا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ یہ بات صدقہ اور ہدیہ میں فرق کو بہت سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔ جب گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا تک صدقہ کے طور پر پہنچا تو اس نے اپنا مقصد پا لیا۔ اس کے بعد بریرہ رضی اللہ عنہا نے اسے اپنی طرف سے ہدیہ کیا، اس لیے نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے قبول فرمایا۔ اس روایت میں ہدیہ قبول کرنے کی سنت بھی نظر آتی ہے اور یہ بھی کہ حکم کو اصل صورت کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ مستحق کو ملنے کے بعد اس کی ملکیت بن جاتا ہے۔
- مستحق اپنی ملکیت میں سے ہدیہ دے سکتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ہدیہ اور صدقہ کا فرق صاف بتایا۔
- مسئلہ سمجھتے وقت مال کے پہلے اور بعد کے حکم کو الگ دیکھا جائے۔
