حدیث ۲۴۲۹

نرمی اور سخاوت کی حدیث: سختی کے جواب میں مسکراہٹ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۲۹

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكًا . ح وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ ، فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ " ،

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا چاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران (شہر کا نام ہے) کی چادر اوڑھی ہوئی تھی جس کا کنارہ موٹا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گاؤں کا آدمی ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چادر سمیت کھینچا بہت زور سے کہ میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کے موہرے پر چادر کی نشان بن گیا اور اس کا حاشیہ گڑ گیا۔ اس کے زور سے کھینچنے کے سبب سے، پھر کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! حکم کرو میرے لئے اس مال میں سے کچھ دینے کا جو اللہ کا دیا آپ کے پاس ہے۔ سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور ہنسے اور حکم کیا اس کو کچھ دینے کا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۴۲۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجرانی چادر اوڑھی ہوئی تھی جس کا کنارہ موٹا تھا۔ ایک اعرابی آیا اور اس نے چادر کو اتنی زور سے کھینچا کہ گردن پر نشان پڑ گیا۔ پھر اس نے کہا کہ اللہ کے مال میں سے مجھے دینے کا حکم کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا، مسکرائے اور اسے کچھ دینے کا حکم فرمایا۔ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلم، نرمی اور سخاوت کو بہت صاف انداز میں دکھاتی ہے۔ سخت رویے کے باوجود آپ نے جواب میں بدزبانی نہیں فرمائی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت رویے پر بھی نرمی فرماتے تھے۔
  • مال دینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز کشادہ تھا۔
  • سوال کرنے والے کا انداز سخت تھا، مگر جواب میں حلم دکھایا گیا۔
  • غصے کے موقع پر مسکراہٹ اور نرمی بڑی خوبی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں