حدیث ۲۳۰۲

صدقہ کی حدیث: احد کے برابر سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ ہو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۰۲

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا تَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ ، وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ عَلَيَّ " ،

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ آرزو نہیں کہ یہ احد کا پہاڑ میرے لئے سونا ہو جائے اور تین دن سے زیادہ میرے پاس ایک دینار بھی باقی رہے مگر وہ دینار کہ وہ اپنے کسی قرض خواہ کو دینے کے لئے اٹھا رکھوں۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۳۰۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں صدقہ اور مال خرچ کرنے کی بہت پیاری تعلیم ملتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر احد پہاڑ کے برابر سونا بھی میرے پاس ہو تو مجھے پسند نہیں کہ تین دن گزر جائیں اور میرے پاس ایک دینار باقی رہے۔ صرف وہ دینار مستثنیٰ ہے جو قرض ادا کرنے کے لیے رکھا گیا ہو۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ مال کا بہترین استعمال ضرورت کے بعد خیر کے کاموں میں خرچ کرنا ہے۔ حدیث میں قرض کا ذکر بھی ہے، اس لیے مال خرچ کرتے وقت ذمہ داری کو نہیں بھولنا چاہیے۔ صدقہ کی حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ دل کو مال سے زیادہ اللہ کی رضا اور بندوں کے فائدے سے جوڑنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال کو بلا وجہ روک کر رکھنا پسندیدہ طرز نہیں بتایا گیا۔
  • قرض کی ادائیگی کے لیے رقم الگ رکھنا جائز اور ذمہ دارانہ عمل ہے۔
  • احد کے برابر مال بھی ہو تو دل کا تعلق خرچ کرنے سے ہونا چاہیے۔
  • صدقہ اور ذمہ داری دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں