حدیث ۲۲۵
حجۃ الوداع کی نصیحت: مسلمان کا خون حرام سمجھو
صحیح مسلم : ۲۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۵
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " وَيْحَكُمْ ، أَوَ قَالَ : وَيْلَكُمْ ، لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں «وَيْحَكُمْ» یا «وَيْلَكُمْ» فرمایا: ”میرے بعد کافر مت ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا کہ میرے بعد کافر مت ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ حدیث میں «وَيْحَكُمْ» یا «وَيْلَكُمْ» کے الفاظ بھی آئے ہیں، جو سخت تنبیہ کا انداز بتاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان جان لیوا لڑائی کوئی معمولی بات نہیں۔ مسلمان کا خون، مسلمان کی جان اور باہمی امن اس حدیث کا اصل موضوع ہیں۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ دین صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ لوگوں کی جان بچانا، فساد سے رکنا اور ایک دوسرے پر ہاتھ نہ اٹھانا بھی اہم دینی ذمہ داری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمانوں کو ایک دوسرے کی جان لینے سے سختی سے روکا گیا ہے۔
- حجۃ الوداع کی نصیحت بہت توجہ سے سننے کے قابل ہے۔
- حدیث میں سخت الفاظ اس عمل کی سنگینی بتاتے ہیں۔
- باہمی امن ایمان والے معاشرے کی اہم ضرورت ہے۔
