حدیث ۲۲۳
مسلمانوں کی جان کی حرمت اور باہمی خون ریزی سے منع
صحیح مسلم : ۲۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ جَدِّهِ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ، ثُمَّ قَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا حجۃ الوداع میں (یعنی آخری حج میں، وداع کا حج اس کو اس لیے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو رخصت کیا، اس حج میں دین کے احکام بتلائے اور دوسرے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی) ”چپ کراؤ لوگوں کو“ (تاکہ وہ اس ضروری بات کو سنیں) پھر فرمایا: ”میرے بعد، میرے اس مؤقف کے بعد یا وفات کے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ بن جانا۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں حجۃ الوداع کا موقع بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے لوگوں کو خاموش کرایا تاکہ بات غور سے سنی جائے، پھر فرمایا کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع مسلمانوں کا خون بچاؤ ہے۔ الفاظ بہت سخت ہیں، اس لیے مسلمان کی جان، عزت اور امن کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہاں باہمی لڑائی کو ایک بڑی خرابی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ دینی نصیحت کو سننے کے لیے خاموشی اور توجہ بھی ضروری ہے، اور اس نصیحت کا اصل مقصد مسلمانوں کو آپس کی خون ریزی سے بچانا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی بات سننے کے لیے لوگوں کو خاموش اور متوجہ ہونا چاہیے۔
- مسلمانوں کی باہمی خون ریزی سخت منع ہے۔
- ایک دوسرے کی گردنیں مارنا حدیث میں بہت سنگین عمل بتایا گیا ہے۔
- امت کے اندر امن اور جان کی حرمت کا خیال رکھنا چاہیے۔
