حدیث ۲۱۱۶

ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات پر سورج گرہن: لوگوں کے خیال کا ذکر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۱۶

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَمَرْوَانُ كلهم ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ ، وَوَكِيعٍ " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ النَّاسُ انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ " .

‏‏‏‏ سفیان اور وکیع سے روایت ہے کہ سورج گرہن ہوا جب ابراہیم فوت ہوئے پس لوگوں نے کہا کہ یہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے گرہن ہوا ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۱۱۶ کا خلاصہ

یہ روایت سورج گرہن کے مشہور واقعے کا ایک مختصر حصہ بیان کرتی ہے۔ اس میں آیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو سورج گرہن ہوا۔ لوگوں نے کہا کہ یہ گرہن ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس مختصر روایت میں صرف لوگوں کے اس خیال کو نقل کیا گیا ہے۔ اسی موضوع کی دوسری روایات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے، بلکہ اللہ کی نشانیاں ہیں۔ یہاں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ لوگ کبھی قدرتی نشانی کو کسی شخصی واقعے سے جوڑ دیتے ہیں، جبکہ حدیث کا مجموعی مضمون اس خیال کی اصلاح کرتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لوگوں نے گرہن کو ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات سے جوڑا، روایت میں یہی خیال نقل ہوا ہے۔
  • اسی باب کی دوسری روایات کے مطابق اس خیال کی اصلاح کی گئی۔
  • دینی معاملے میں صرف عوامی خیال کو دلیل نہیں بنانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں