حدیث ۱۸۴۷

بلند آواز میں تلاوت قرآن: خوش آواز قرأت کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۴۷

حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ ، مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ ، يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ، يَجْهَرُ بِهِ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اللہ تعالیٰ اس طرح کسی چیز کو نہیں سنتا جس طرح کہ اس نبی سے خوش آواز سنتا ہے جو قرآن پڑھے اونچی آواز میں۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اس طرح نہیں سنتا جس طرح خوش آواز نبی کو سنتا ہے جو قرآن کو بلند آواز سے پڑھتا ہے۔ یہاں دو باتیں ساتھ آئی ہیں: حسن الصوت یعنی اچھی آواز، اور جہر یعنی آواز سے پڑھنا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تلاوت میں آواز کا اچھا ہونا اور پڑھنے کا باوقار انداز قابل قدر ہے۔ مگر حدیث کا مفہوم صرف آواز کی نمائش نہیں۔ اصل چیز قرآن ہے، آواز اس کی خدمت کے لیے ہے۔ جب انسان قرآن پڑھتا ہے تو اسے الفاظ، لہجے اور ادب کا خیال رکھنا چاہیے، تاکہ تلاوت دل پر اثر کرے اور قرآن کی شان بھی باقی رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کی بلند آواز تلاوت میں بھی ادب ضروری ہے۔
  • اچھی آواز قرآن کی خدمت کے لیے ہو، نمائش کے لیے نہیں۔
  • حدیث میں خوش آواز نبی کی قرأت کا خاص ذکر ہے۔
  • تلاوت کرتے وقت الفاظ اور لہجے دونوں کا خیال رکھیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں