حدیث ۱۸۰۹
دعائے تہجد کے الفاظ: قریب المعنی روایات کا بیان
صحیح مسلم : ۱۸۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۰۹
حَدَّثَنَا وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وابن أبي عمر ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ ، فَاتَّفَقَ لَفْظُهُ مَعَ حَدِيثِ مَالِكٍ ، لَمْ يَخْتَلِفَا إِلَّا فِي حَرْفَيْنِ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : مَكَانَ قَيَّامُ ، قَيِّمُ ، وَقَالَ : وَمَا أَسْرَرْتُ ، وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، فَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ ، وَيُخَالِفُ مَالِكًا ، وَابْنَ جُرَيْجٍ فِي أَحْرُفٍ .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی جو روایت ابن جریج نے بیان کی۔ اس کے الفاظ مالک کی حدیث کے ساتھ متفق ہیں اور کوئی اختلاف نہیں سوائے دو حرفوں کے ابن جریج نے «قَيَّامُ» کی جگہ «قَيِّمُ» کا لفظ استعمال کیا اور «وَمَا أَسْرَرْتُ» کا لفظ کہا ہے اور باقی ابن عیینہ کی حدیث میں کچھ باتیں زائد ہیں اور مالك اور ابن جریج کی روایت سے کچھ باتوں میں مختلف ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۰۹ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل ہونے والی دعائے تہجد ہی کے بارے میں ہے، مگر یہاں راویوں کے الفاظ کے فرق کا ذکر ہے۔ بتایا گیا کہ ابن جریج کی روایت مالک کی روایت کے ساتھ ملتی ہے، صرف چند الفاظ میں فرق ہے، جیسے قیام کی جگہ قیم کا لفظ اور وما اسررت کا اضافہ۔ اس حدیث کا اصل موضوع دعائے تہجد کے الفاظ کی نقل ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ محدثین الفاظ کے فرق کو بھی محفوظ کرتے تھے۔ عام قاری کے لیے فائدہ یہ ہے کہ وہ جان لے کہ دعا کا مرکزی مضمون وہی ہے: اللہ کی حمد، حق کا اقرار، ایمان، توکل اور مغفرت کی درخواست۔ مگر الفاظ کے فرق کو اپنی طرف سے بڑھا کر حکم نہیں بنانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ نقل کرتے وقت محدثین معمولی فرق بھی بیان کرتے تھے۔
- دعائے تہجد کا مرکزی مضمون اللہ کی حمد اور مغفرت ہے۔
- الفاظ کے فرق کو امانت کے ساتھ ذکر کیا گیا۔
- حدیث سمجھتے وقت اصل متن کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔
