حدیث ۱۷۲۰
رات کی تیرہ رکعت اور پانچ وتر کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۷۲۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۲۰
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح ، وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ ، لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ إِلَّا فِي آخِرِهَا " .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعت پڑھتے پانچ ان میں سے وتر ہوتیں کہ بیٹھتے مگر ان کے آخر میں۔
صحیح مسلم حدیث ۱۷۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع قیام اللیل اور وتر ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعت پڑھتے تھے۔ ان میں سے پانچ وتر ہوتیں، اور آپ ان پانچ میں آخر ہی میں بیٹھتے۔ یہ روایت رات کی نماز اور وتر کے طریقے کے بارے میں ایک الگ انداز بیان کرتی ہے۔ تہجد کی رکعات، پانچ وتر کی حدیث، اور قیام اللیل کے موضوع میں یہ متن صاف طور پر تعداد اور بیٹھنے کی جگہ بتاتا ہے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ روایت میں صرف یہی الفاظ آئے ہیں: تیرہ رکعت، ان میں پانچ وتر، اور بیٹھنا صرف آخر میں۔ اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رہنی چاہیے، بغیر کسی اضافی تفصیل کے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کی نماز میں تیرہ رکعت کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
- ان رکعتوں میں پانچ وتر ہونے کا بیان موجود ہے۔
- پانچ وتر میں بیٹھنے کا ذکر صرف آخر کے لیے کیا گیا ہے۔
