حدیث ۱۵۷۴
قصر نماز: اللہ کے صدقے کو قبول کرنے والی روایت
صحیح مسلم : ۱۵۷۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۷۴
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ .
یعلیٰ بن امیہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۷۴ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ یعلیٰ بن امیہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے بارے میں سوال کیا تھا۔ سوال یہ تھا کہ آیت میں قصر کا ذکر خوف کے ساتھ آیا ہے، جبکہ اب لوگ امن میں ہیں۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ کا صدقہ ہے، اسے قبول کرو۔ اس روایت میں تفصیل کم ہے، مگر موضوع وہی قصر نماز، سفر کی نماز اور اللہ کی دی ہوئی آسانی ہے۔ چونکہ متن میں صرف پچھلی حدیث جیسا مضمون آنے کا ذکر ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی اصل پیغام تک محدود رہتی ہے: سفر میں قصر اللہ کی طرف سے آسانی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قصر نماز کے مسئلے کو دوسری سند سے بھی نقل کیا گیا۔
- سفر میں قصر کو اللہ کا صدقہ کہا گیا۔
- صحابہ دینی باتوں میں سوال کرتے اور جواب محفوظ رکھتے تھے۔
- اللہ کی دی ہوئی آسانی کو قبول کرنا اس روایت کا بنیادی سبق ہے۔
